بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||
دوسری اور آخری قسط:
منظر اچانک بدل جاتا ہے، "جدائی کا دن" آ پہنچتا ہے
سورہ مرسلات کے آغاز کے ساتھ ہی، آیات کا ماحول تیزی سے بدل جاتا ہے۔ سورہ مرسلات کا آغاز مسلسل قسموں سے ہوتا ہے:
"وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا * فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا * وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا * فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا؛
قسم ہے ان کی جو مسلسل بھیجی جاتی ہیں * پھر وہ زور دار جھکڑ کے ساتھ چلتی ہیں * اور چاروں طرف شدت کے ساتھ پھیلا دیتی ہیں * پھر پوری طرح جدا جدا کر دیتی ہیں۔"
علامہ طباطبائی ان قسموں کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ ایسے کارگزاروں کی طرف اشارہ ہے جو خدا کی تدبیر میں کردار ادا کرتے ہیں اور بالآخر وحی اور اللہ کی حجت کی تکمیل کے مسئلے تک پہنچتے ہیں، یعنی خدا کا پیغام اس لئے بھیجا گیا کہ لوگوں کے پاس حق کے سامنے کوئی عذر اور بہانہ نہ رہے۔
ان تمام قسموں کا نتیجہ ایک جملے میں:
"إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ؛
جو تم سے وعدہ وعید کیا جا رہا ہے، وہ ضرور ہو کر رہے گا۔"
پھر قیامت کی عظیم نشانیاں یکے بعد دیگرے آتی ہیں:
"وَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ؛
تو جب ستارے بے نشان ہو جائیں گے۔"
"وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ؛
اور جب آسمان کشادہ کر دیا جائے گا۔"
"وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ؛
اور پہاڑ اکھاڑ کر بکھیر دیئے جائیں گے۔
اور جب پہاڑ سرمہ ہوکر بکھیر دیئے جائیں گے۔"
قیامت، حق کو باطل سے جدا کرنے کا دن
آگے رسولوں کا ذکر آتا ہے:
"وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ؛
اور جب [گواہی کے لئے] پیغمبروں کی حاضری کا وقت معین کیا جائے گا۔"
لیکن وہ وقت کس لئے ہے؟ جواب اور فیصلہ کن ہے:
"لِيَوْمِ الْفَصْلِ؛
جدائی [یا فیصلے] کے دن کے لئے۔"
ان آیات میں "يَوْمُ الْفَصْلِ" سے مراد محض روز قیامت کا ایک نام نہیں ہے بلکہ یہ وہ دن ہے جب حق اور باطل، ایمان رکھنے والے اور جھٹلانے والے اور انسانوں کے اعمال کا نتیجہ آشکار ہو جائے گا۔ قرآن اس [يَوْمُ الْفَصْلِ] کی عظمت کے لئے فرماتا ہے: "وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ؛ اور تم کیا جانو کہ یوم الفصل کیا ہے۔"
پھر اس سورت کی پہلی تنبیہ دہرائی جاتی ہے:
"وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ؛
بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔"
قرآن اس انجام کا 'امکان اور وقوع' ثابت کرنے کے لئے تاریخ کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے:
"أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ؛
کیا ہم نے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کیا؟"
اور ان کے بعد دوسرے مجرم اسی انجام سے دوچار ہوئے:
"كَذَلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ؛
ایسا ہی کرتے ہیں ہم مجرموں کے ساتھ۔"
انسان کو دنیا میں اختیار حاصل ہے اور وہ "إِلَىٰ رَبِّهِ سَبِيلًا" (2) کو چن لے ن سکتا ہے، مگر یہ موقع ہمیشہ کے لئے نہیں۔ اگر دنیا آخری منزل بن جائے اور خدا کا وعدہ انکار کر دیا جائے، تو بالآخر انسان کو "يَوْمِ الْفَصْلِ" کا سامنا ہوگا، ایسا دن جب انتخاب ختم ہو چکے ہوں گے اور حقیقت اور اعمال کا نتیجہ آشکار ہو چکا ہوگا۔
قرآن کریم کے صفحہ 580 پر ان آیات کریمہ تلاوت سنیے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2۔ "إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا؛ یقینا اس میں ایک بڑی نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف کاراستا اختیار کرے۔" (سورہ دہر / انسان، آیت 29) "قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَّخِذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا؛ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر جو چاہے کہ اپنے پروردگار کی طرف راستہ بنائے۔" (سورہ فرقان، آیت 87)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ